Adeel Khalid
Posted June 11, 2010 by Adeel Khalid in Football



ورلڈ کپ 2010 کے ممکنہ ’چھپے رستم‘









ہر چار برس بعد دنیائے فٹبال کے بہترین کھلاڑی فٹبال کے سب سے بڑے مقابلوں میں حصہ لینے کے لیے میدان میں اترتے ہیں اور یہی وہ موقع ہوتا ہے جب دنیا بھر کے فٹبال کلبوں کی نظریں اس کھلاڑی کی تلاش میں ہوتی ہیں جو ان کے لیے کارآمد ثابت ہو سکتا ہے۔


فرانس کے تھیئری آنری اور ڈیوڈ پلیٹ ایسے ہیں دو نام ہیں جو ورلڈ کپ مقابلوں میں اپنی کارکردگی کی وجہ سے فٹبال ناقدین اور کوچز کی نظروں میں آئے اور یہی مقابلے ان کے پروفیشنل کیرئر کا نقطۂ آغاز ثابت ہوئے۔


بی بی سی سپورٹس نے سابق کھلاڑی ، کوچ اور فٹبال کھلاڑیوں کی سکاؤٹنگ کرنے والے ڈیرک بریگ کی مدد سے یہ اندازہ لگانے کی کوشش کی ہے کہ سنہ 2010 کے فٹبال عالمی کپ میں ایسے کونسے کھلاڑی ہیں جو چھپے رستم ثابت ہو سکتے ہیں۔



میسٹ اوزل، جرمنی



اوزل کی تکنیک کے سب ہی مداح ہیں




جرمنی سے تعلق رکھنے والا اکیس سالہ میسٹ ورڈن برمن نامی کلب کے لیے کھیلتے ہیں۔ فٹبال سکاؤٹس کے مطابق میسٹ کی شاندار تکنیک، نظر اور آس پاس کے ماحول سے آگاہی ان کے مثبت پوائنٹس ہیں۔


وہ مخالف ٹیم کے دفاع کو تتر بتر کرنے اور اپنی ٹیم کے کھلاڑیوں کو ساتھ لے کر چلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔



میسٹ اوزل جرمن فٹبال ٹیم کے مستقل رکن ہیں اور انہوں نے ورلڈ کپ تک اپنی ٹیم کو رسائی دلوانے کے لیے روس کے خلاف فیصلہ کن گول کیا تھا۔


ڈینی، پرتگال



ڈینی ایک اٹیکنگ مڈ فیلڈر ہیں




چھبیس سالہ ڈینی روسی کلب ڈینٹ سینٹ پیٹرزبرگ کے لیے کھیلتے ہیں اور وہ ایک اٹیکنگ مڈ فیلڈر ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈینی کی رفتار، چستی اور اردگرد کے کھلاڑیوں سے تال میل قابلِ دید ہیں۔



انہیں سنہ 2008 میں مانچسٹر یونائیٹڈ کے خلاف سپر کپ مقابلے میں میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا تھا۔


الیکسز سانچیز، چلی



الیکسز سانچیز

الیکسز سانچیز کو چلی میں جادوئی لڑکا کہا جاتا ہے




چلی کے اکیس سالہ سٹرائیکر الیکسز یوڈینیس کلب سے کھیلتے ہیں۔ سکاؤٹنگ ماہر کے مطابق الیکسز کی سب سے بڑی خوبی ان کی پھرتی اور پاسنگ کی قابلیت ہے۔



میدان میں انتہائی تیزی سے حرکت کرنے کے لیے مشہور اس کھلاڑی کو چلی میں ’النینو ماراولا‘ یعنی جادوئی لڑکے کے طور پر جانا جاتا ہے۔ الیکسز سانچیز نے سترہ برس کی عمر میں اپنے بین الاقوامی کیرئر کا آغاز کیا تھا۔


الیگزینڈر کولاروو



کولاروو اپنی پاسنگ کے لیے بھی مشہور ہیں





چوبیس سالہ الیگزینڈر لازیو کلب کے رکن ہیں اور وہ لیفٹ بیک پوزیشن پر کھیلتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق کولاروو طویل القامت اور مضبوط جسم کے مالک دفاعی کھلاڑی ہیں۔


ان میں زمین اور ہوا میں یکساں طور پر گیند پر جھپٹنے کی صلاحیت موجود ہے۔


الیگزینڈر لازیو کو پرسکون طبیعت کا مالک کھلاڑی سمجھا جاتا ہے اور وہ اپنی پاسنگ کے لیے بھی مشہور ہیں۔


سیدو دومبیا، آئیوری کوسٹ




دومبیا گزشتہ برس سوئس سپر لیگ کے بہترین کھلاڑی تھے




بائیس سالہ دومبیا روسی کلب سی ایس کے ماسکو کی ٹیم کا حصہ ہیں اور وہ ایک سٹرائیکر ہیں۔ سکاؤٹنگ ماہرین کا کہنا ہے کہ دومبیا نہ صرف تیزرفتار اور مضبوط ہیڈ مارنے والے کھلاڑی ہیں بلکہ گول کے سامنے ان کی کارکردگی قابلِ دید ہوتی ہے۔


انہوں نے سوئس کلب برن ینگ بوائز کی جانب سے کھیلتے ہوئے پینسٹھ میچوں میں پچاس گول کیے تھے اور انہیں گزشتہ برس سوئس سپر لیگ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا تھا۔


وہ آئندہ سیزن میں سی ایس کے ماسکو کی جانب سے مقابلوں میں حصہ لیں گے۔



گریگری وین ڈر ویل، ہالینڈ



گریگری وین ڈر ویل بطور سینٹر ہاف بھی کھیل سکتے ہیں۔




بائیس سالہ ولندیزی کھلاڑی وین ڈر ویل آئیکس کلب کے رائٹ بیک ہیں۔


ماہرین کا کہنا ہے کہ وہ ایک پھرتیلے اور ایک خاص نظم و ضبط کے تحت کھیلنے والے ایسے دفاعی کھلاڑی ہیں جو بطور سینٹر ہاف بھی کھیل سکتے ہیں۔ وہ اس بات کی طاقت رکھتے ہیں کہ دفاعی پوزیشن سے گیند لے کر مخالف ٹیم کے گول پر حملہ آور ہوں۔




Comments
No Comments. Login or Signup to be first.

Your Ad Here